صفات شیعہ
حدیث :
۔۔۔۔۔۔۔
سمعت ابا عبد اللہ (ع)
یقول :ان احق الناس بالورع آل محمد (ص) وشیعتہم کی تقتدی
الرعیة بہم [1]
ترجمہ
امام
صادق (ع) فرماتے ہیں کہ ورع و تقویٰ میںسب سے بہتر آل
محمد(ص) اور ان کے شیعہ ہیں تاکہ دیگر تمام افراد ان کی اقتدا
کریں ۔
حدیث
کی شرح :
شیعہ
ہونا، امام کا جز ہونا ہے۔ معصوم امام و پیغمبران تمام لوگوں کے لئے
امام ہیں،لہذا شیعوں کو بھی چاہئے کہ وہ لوگوں کے ایک
گروہ کے امام ہوں ۔واقعیت یہ ہے کہ اسلامی سماج میں
شیعوں کو پیش رو ہونا چاہئے تاکہ دوسرے ان کی اقتدا کریں
،جس طرح جنوبی لبنان میں شیعہ مجاہدوںکی صفوں میں
سب سے آگے ہیں اور سب لوگ ان کو مضبوط ،فداکار اور ایثارگروں کی
شکل میں پہچانتے ہیں ۔شیعوںکو چاہئے کہ صرف جہاد
میںہی نہیں بلکہ زندگی کے ہر میدان میں
پوری دنیا کے لئے پیشوا و نمونہ بنیں۔ورع تقوے سے
بھی بلند چیز ہے ۔کچھ بزرگوں نے ورع کو چار مرحلوں میں
تقسیم کیا ہے :
1.
توبہ
کرنے والوں کے ورع کا مرحلہ :
ورع کا یہ مرحلہ انسان کو فسق سے بچاتا ہے
یہ ورع کا سب سے نیچے کا مرتبہ ہے اور عدالت کے برابر ہے
یعنی انسان گناہ سے توبہ کرکے عادلوں کی صف میں آجاتا ہے
۔
2.
صالحین
کے ورع کا مرحلہ :
ورع کے اس مرحلہ میں انسان شبہات سے بھی
پرہیز کرتا ہے یعنی وہ چیزیں جو ظاہرا حلال
ہیں لیکن ان میں شبہ پایا جاتا ہے ان سے بھی بچتاہے
۔
3.
متقین
کے ورع کا مرحلہ :
ورع کے اس مرحلہ میں انسان گناہ اور شبہات سے تو
پرہیز کرتا ہی ہے مگر ان کے علاوہ ان حلال چیزوں سے بھی
بچتا ہے جن کے سبب کسی حرام میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہو جیسے کم
بولتا ہے کیونکہ وہ ڈرتا ہے کہ اگر زیادہ بولا تو کہیں
کسی کی غیبت نہ ہو جائے جو واقعا اس عنوان میں داخل ہے کہ”
اترک ما لا باس بہ حذرا مماباس بہ “
4.
صدیقین
کی ورع کا مرحلہ :
اس مرحلہ میں عمر کے ایک لمحے کے برباد
ہونے کے ڈر سے غیر خدا سے بچا جاتا ہے یعنی غیر خدا سے
بچنا اور اللہ سے لو لگانا اس لئے ہے کہ کہیں عمر کاایک لمہ برباد نہ
ہو جائے ۔ہمارا سب سے قیمتی سرمایہ ہماری عمر ہے جس
کو ہم تدریجا اپنے ہاتھ سے گنواتے رہتے ہیں اور اس بات سے غافل ہیں
کہ یہ ہمارا سب سے قیمتی سرمایہ ہے ۔
امام
صادق (ع) نے فرمایا کہ ورع میں سب سے بہتر آل محمد(ص) اور ان کے
شیعہ ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ ورع کے مراتب میں سے کم
سے کم پہلامرتبہ تو ہم کو اختیار کرہی لینا چاہئے
یعنی شیعہ کو چاہئے کہ وہ عادل اور عوام کا پیشوا ہووہ فقط
خود ہی کو نہ بچائے بلکہ دوسروں کو بھی نجات دے۔سورہ فرقان کے
آخر میں اللہ کے بندوںکی بارہ خصوصیات بیان کی
گئیں ہیں اور ان میں سے ایک خصوصیت یہ ہے کہ
<والذین یقولون ربنا ہب لنا من ازواجنا وذریاتنا قرة
عین وجعلنا للمتقین اماما [2]یہ
وہ لوگ ہیں جو اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ ہم کو متقین کا امام بنا
دے کیا یہ چاہنا کہ ہم میں سے ہرایک امام ہو طلب
برتری ہے؟نہیں یہ ہمت کی بلندی ہے بس اس سے
یہ معلوم ہوتا ہے کہ اپنے آپ کو شیعہ کہنا اور شیعوں کی
صف میں کھڑا ہونا آسان ہے لیکن واقعی شیعہ ہونا بڑا مشکل
ہے ۔امام زمانہ ﷼ اور دیگر ائمہ ہدیٰ کو اہل علم
حضرات اور اس مکتب کے شاگردوں سے بہت زیادہ توقع ہے ۔لہذاہم کو چاہئے
کہ لوگوں کے لئے نمونہ بنیںتاکہ لوگ ہماری اقتدا کریں اور
تبلیغ کا سب سے بہترین طریقہ بھی یہی ہے ،کہ
انسان کے پاس اتنا ورع وتقویٰ ہو کہ لوگ اسکے ذریعہ سے اللہ کو
پہچانیں۔جان لو کہ حقیقی شیعہ وہ افراد ہیں
جو شجاع ،صبور ،محبت سے لبریز ،پرہیزگارا ور حرام سے بچنے والے
ہیں اور جنھیں مقام و منزلت سے لگاؤ نہیں ہے ۔
ہمارے
زمانہ کی کچھ خاص شرطیں ہیں ۔ہم اپنے ملک میں اور
دنیا کے اکثر مناطق میں تین مشکلوں سے روبرو ہیں ۔
اول:
سیاسی بحران :یہ کبھی نہ سلجھنے والا الجھاؤ ہے جو آج کل
اور زیاد الجھ گیا ہے اورجس کے انجام کے بارے میں کوئی
اچھی پیشن گوئی نہیں ہو رہی ہے ۔
دوم:
اقتصادی بحران:مکان کی مشکل ،شادی بیاہ کے خرچ کی
مشکل ،بے روزگاری وغیرہ کی مشکلیں ۔
سوم:
اخلاقی بحران: میرا خیال ہے کہ یہ ان دونوں بحرانوں سے
زیادہ خطرناک ہے خاص طور پر وہ بحران جس نے جوان لڑکوں اور لڑکیوں کا
دامن پکڑلیا ہے اور ان کو برائی کی طرف کھینچ رہا ہے اس
اخلاقی بحران کی بھی تین وجہیں ہیں :
1.
وسائل
کا پھیلاؤ :
جیسے مختلف اقسام کی سی ، ڈی،فوٹو،فلمیں،ڈش
و انٹرنٹ وغیرہ جنسی مسائل کو آسانی کے ساتھ ہر انسان تک
پہونچانے کا سبب بنے ہیں ۔
2.
کسی
شرط کے بغیر پوری آزادی :
دوسرے الفاظ میں آزادی کے نام پر
قید ،آزادی کے نام پر شہوت کے پنجوں میں قید،اس طرح کے
امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرنا بہت سے افراد کی شرمندی کا
سبب ہو جاتا ہے ۔آزادی جو کہ انسان کے تکامل کا ذریعہ ہے اس
کی اس طرح تفسیر کی گئی کہ وہ انسان کی پستی
اورگراوٹ کا وسیلہ بن گئی ۔
3.
دست پس
پردہ :
کچھ
لوگون کا ماننا ہے کہ اگر جوان خراب ہو جائیں تو پھر ان پر قابوپانا آسان ہے
۔انھوں نے اس راہ میں دین و اخلاق کو مانع پایا ہے
۔انھوں نے صحیح سوچا ہے کیونکہ جو ملت گناہوں ،برائیوں
اور منشیات کے جال میںپھس جائے گی وہ کبھی بھی دشمن
کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔
کیا
ہم ان مسائل کے مقابلہ میں خاموش ہو کر بیٹھ جائیں اور دعا
کریں کہ مصلح آجائے ۔یہ ڈرپوک اور سست انسانوں کی
باتیں ہیں ۔کربلا میں چند ہی نفر توتھے جنھوں نے
قیام کیا یا۔ پیغمبر اسلام کو ہی لے
لیجئے جنھوںنے تن تنہا لوگوںکو حق کی دعوت دی یا جناب
ابراہیم علیہ السلام جو تنہا ہی کھڑے ہو گئے تھے ۔حق و
عدالت کے راستے میں تعداد کی کمی سے نہیں گھبرانا چاہئے
”لا تستو حشوا فی طرق الہدیٰ للقلة اہلہ “
الحمد
للہ کہ اب افراد کی کمی نہیں ہے ،پندرہ شعبان کو مسجد جمکران کے
چاروں طرف میدان عرفات سے زیادہ لوگ جمع تھے اور ان میں جوانوں
کو اکثریت حاصل تھی، یا اعتکاف کو لے لیجئے اس میں
جوان اتنا بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں کہ جگہ کم رہ جاتی ہے
یہ سب آپ کی فوج ہے ۔
ہمیں
چاہئے کہ ہماری ذات ،ہماری زبان ،ہمارا قلم دوسروں کے لئے نمونہ ہو،
تاکہ اس اخلاقی بحران کامقابلہ کرسکیں۔اس راہ میں اللہ کے
وعدے ہمارے حوصلوںکو بڑھاتے ہیں ۔عوام اب بھی روحانیت کو
اپنا محرم اسرار مانتے ہیں جس علاقہ میں بھی تبلیغ کے لئے
جاؤ وہاں کے لوگوں کی مشکلوںکو نظر میں رکھو اوران سے مسئولین
کو آگاہ کراؤ ، لوگوں کے دو گروہ ہیں ایک عوامی گروہ جو کہتا ہے کہ
ماہ رمضان میں پاک ہو جائیں گے، اور دوسراگروہ خواص کا ہے جو کہتا ہے
کہ ماہ شعبان میں پاک ہو کر رمضان میں وارد ہوں گے ۰ کیونکہ ماہ رمضان اللہ کی مہمانی
کا مہینہ ہے اس لئے مہمان کو چاہئے کہ پہلے ہی پاک ہو جائے
لہٰذا ہمیں اپنی زبان و آنکھوںکو ماہ شعبان میں ہی
پاک کرلینا چاہئے تاکہ رمضان کی برکتوں سے فائدہ اٹھا سکیں اور
اس بارے میں ہمیں لوگوںکو بھی آگاہ کرنا چاہئے کہ ماہ شعبان
اپنے آپ کو سنوارنے اور اللہ کی ضیافت کے لئے تیار ہونے کا
مہینہ ہے ۔میں آپ سب حضرات سے اس بات کا امید وار ہوں کہ
اپنے پروگراموں اور مسائل کو کامیابی کے ساتھ انجام دو اور
سیاسی جھمیلوں میں نہ پھنس کر سب لوگوں کو اتحاد کی
دعوت دو ۔ہمارے سامنے کوئی مشکل نہیں ہے بلکہ ہم خود مشکلوں کو
جنم دیتے ہیں ۔ہم سب کو چاہئے کہ آپس میں متحد ہو
جائیں کیونکہ دشمن اپنی تیاری پوری کرچکا ہے
وہ جب آئے گا تو کسی کو بھی نہیں چھوڑے گا۔
[1]
بحار الانوار ج/ ۶۵ ،ص/ ۱۶۶ ،حدیث/ ۲۱
[2]
سورہ فرقان/ ۷۴